EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خموشی میں ہر بات بن جائے ہے
جو بولے ہے دیوانہ کہلائے ہے

کلیم عاجز




کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں
آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ

کلیم عاجز




کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہے
یاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنے

کلیم عاجز




مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

کلیم عاجز




میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپا
نہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہے

کلیم عاجز




مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہے
جینا ہی محبت میں کرامات لگے ہے

کلیم عاجز




موسم گل ہمیں جب یاد آیا
جتنا غم بھولے تھے سب یاد آیا

کلیم عاجز