EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
آنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے

کیف احمد صدیقی




اک برس بھی ابھی نہیں گزرا
کتنی جلدی بدل گئے چہرے

کیف احمد صدیقی




کیفؔ کہاں تک تم خود کو بے داغ رکھو گے
اب تو ساری دنیا کے منہ پر سیاہی ہے

کیف احمد صدیقی




کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی
جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا

کیف احمد صدیقی




خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے
وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے

کیف احمد صدیقی




خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے

کیف احمد صدیقی




محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں
جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا

کیف احمد صدیقی