EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیں
اشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیں

کفیل آزر امروہوی




میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ
پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں

کفیل آزر امروہوی




مکاں شیشے کا بنواتے ہو آزرؔ
بہت آئیں گے پتھر دیکھ لینا

کفیل آزر امروہوی




میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا

کفیل آزر امروہوی




صبح لے جاتے ہیں ہم اپنا جنازہ گھر سے
شام کو پھر اسے کاندھوں پہ اٹھا لاتے ہیں

کفیل آزر امروہوی




تم کو ماحول سے ہو جائے گی نفرت آزرؔ
اتنے نزدیک سے دیکھا نہ کرو یاروں کو

کفیل آزر امروہوی




تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا
زمیں سے چاند تلک کتنا فاصلہ ہوگا

کفیل آزر امروہوی