کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیں
اشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیں
کفیل آزر امروہوی
میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ
پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں
کفیل آزر امروہوی
مکاں شیشے کا بنواتے ہو آزرؔ
بہت آئیں گے پتھر دیکھ لینا
کفیل آزر امروہوی
میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا
کفیل آزر امروہوی
صبح لے جاتے ہیں ہم اپنا جنازہ گھر سے
شام کو پھر اسے کاندھوں پہ اٹھا لاتے ہیں
کفیل آزر امروہوی
تم کو ماحول سے ہو جائے گی نفرت آزرؔ
اتنے نزدیک سے دیکھا نہ کرو یاروں کو
کفیل آزر امروہوی
تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا
زمیں سے چاند تلک کتنا فاصلہ ہوگا
کفیل آزر امروہوی

