EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نکل آئے تنہا تری رہگزر پر
بھٹکنے کو ہم کارواں چھوڑ آئے

کیف عظیم آبادی




تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو
تشنگی لب پہ سجائے ہوے مر جاؤ گے

کیف عظیم آبادی




آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے
بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے

کیف بھوپالی




آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے
آج ہماری عمر بڑھا دی

کیف بھوپالی




چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کو
شہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں

کیف بھوپالی




چار جانب دیکھ کر سچ بولئے
آدمی پھرتے ہیں سرکاری بہت

کیف بھوپالی




چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے
اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ

کیف بھوپالی