EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اداسی کا سمندر دیکھ لینا
مری آنکھوں میں آ کر دیکھ لینا

کفیل آزر امروہوی




اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی




یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگا
تمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگا

کفیل آزر امروہوی




یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد
غزل کسی کو کہا ہی نہیں ہے تیرے بعد

کفیل آزر امروہوی




آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے
دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں

کیف احمد صدیقی




آج پھر شاخ سے گرے پتے
اور مٹی میں مل گئے پتے

کیف احمد صدیقی




چمن میں شدت درد نمود سے غنچے
تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں

کیف احمد صدیقی