داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| دوست |
| 2 لائنیں شیری |
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
پھر یہ بارش مری تنہائی چرانے آئی
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| برش |
| 2 لائنیں شیری |
ایک کمی تھی تاج محل میں
میں نے تری تصویر لگا دی
کیف بھوپالی
ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں
مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے
کیف بھوپالی
اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی
جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| دوست |
| 2 لائنیں شیری |
اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل
تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی
یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
کیف بھوپالی
ٹیگز:
| دہلی |
| 2 لائنیں شیری |

