EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس
صرف وعدے آسمانی دے گیا

کفیل آزر امروہوی




ہم بھی ان بچوں کی مانند کوئی پل جی لیں
ایک سکہ جو ہتھیلی پہ سجا لاتے ہیں

کفیل آزر امروہوی




اک سہما ہوا سنسان گلی کا نکڑ
شہر کی بھیڑ میں اکثر مجھے یاد آیا ہے

کفیل آزر امروہوی




جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا
وہ مری آنکھوں میں پانی دے گیا

کفیل آزر امروہوی




جب سے اک خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کو
میں ہر اک خواب کی تعبیر سے گھبراتا ہوں

کفیل آزر امروہوی




کب آؤ گے یہ گھر نے مجھ سے چلتے وقت پوچھا تھا
یہی آواز اب تک گونجتی ہے میرے کانوں میں

کفیل آزر امروہوی




کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں
میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا

کفیل آزر امروہوی