EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے

کیف احمد صدیقی




تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے
ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں

کیف احمد صدیقی




تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر
راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے

کیف احمد صدیقی




وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا
جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے

کیف احمد صدیقی




نہ جانے کون سی منزل کو چل دیے پتے
بھٹک رہی ہیں ہوائیں مسافروں کی طرح

کیف انصاری




دیوار و در پہ خون کے چھینٹے ہیں جا بہ جا
بکھرا ہوا ہے رنگ حنا تیرے شہر میں

کیف عظیم آبادی




خوشبوئے حنا کہنا نرمیٔ صبا کہنا
جو زخم ملے تم کو پھولوں کی قبا کہنا

کیف عظیم آبادی