سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے
کیف احمد صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے
ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں
کیف احمد صدیقی
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر
راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے
کیف احمد صدیقی
ٹیگز:
| تنہائی |
| 2 لائنیں شیری |
وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا
جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے
کیف احمد صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نہ جانے کون سی منزل کو چل دیے پتے
بھٹک رہی ہیں ہوائیں مسافروں کی طرح
کیف انصاری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دیوار و در پہ خون کے چھینٹے ہیں جا بہ جا
بکھرا ہوا ہے رنگ حنا تیرے شہر میں
کیف عظیم آبادی
ٹیگز:
| فاساد |
| 2 لائنیں شیری |
خوشبوئے حنا کہنا نرمیٔ صبا کہنا
جو زخم ملے تم کو پھولوں کی قبا کہنا
کیف عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

