EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اسی کے ہونٹوں کے پھول باب قبول چومیں
سو ہم اٹھا لائیں اب کے حرف دعا اسی کا

کبیر اجمل




وہ میرے خواب چرا کر بھی خوش نہیں اجملؔ
وہ ایک خواب لہو میں جو پھیل جانا تھا

کبیر اجمل




یہ غم مرا ہے تو پھر غیر سے علاقہ کیا
مجھے ہی اپنی تمنا کا بار ڈھونے دے

کبیر اجمل




یوں خوش نہ ہو اے شہر نگاراں کے در و بام
یہ وادئ سفاک بھی رہنے کی نہیں ہے

کبیر اجمل




ضمیر و ذہن میں اک سرد جنگ جاری ہے
کسے شکست دوں اور کس پہ فتح پاؤں میں

کبیر اجمل




زندہ کوئی کہاں تھا کہ صدقہ اتارتا
آخر تمام شہر ہی خاشاک ہو گیا

کبیر اجمل




ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن
اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی