داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
بات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دھڑکنے لگا دل نظر جھک گئی
کبھی ان سے جب سامنا ہو گیا
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل گیا رونق حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی
جگر مراد آبادی
دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو
بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| بینڈیگ |
| 2 لائنیں شیری |
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
جگر مراد آبادی
دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیں
کتنی ظالم ہے تیری انگڑائی
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| فریکچر |
| 2 لائنیں شیری |

