EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
بات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی

جگر مراد آبادی




دھڑکنے لگا دل نظر جھک گئی
کبھی ان سے جب سامنا ہو گیا

جگر مراد آبادی




دل گیا رونق حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی

جگر مراد آبادی




دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو
بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو

جگر مراد آبادی




دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا

جگر مراد آبادی




دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی




دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیں
کتنی ظالم ہے تیری انگڑائی

جگر مراد آبادی