EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا
ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی




آدمی کے پاس سب کچھ ہے مگر
ایک تنہا آدمیت ہی نہیں

جگر مراد آبادی




آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے
جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

جگر مراد آبادی




آج نہ جانے راز یہ کیا ہے
ہجر کی رات اور اتنی روشن

جگر مراد آبادی




آپ کے دشمن رہیں وقف خلش صرف تپش
آپ کیوں غم خواری بیمار ہجراں کیجیے

جگر مراد آبادی




آتش عشق وہ جہنم ہے
جس میں فردوس کے نظارے ہیں

جگر مراد آبادی




اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

جگر مراد آبادی