EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر
وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے

جگر مراد آبادی




بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل بر کے آس پاس
کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس

جگر مراد آبادی




بن جاؤں نہ بیگانۂ آداب محبت
اتنا نہ قریب آؤ مناسب تو یہی ہے

جگر مراد آبادی




برابر سے بچ کر گزر جانے والے
یہ نالے نہیں بے اثر جانے والے

جگر مراد آبادی




بھلانا ہمارا مبارک مبارک
مگر شرط یہ ہے نہ یاد آئیے گا

جگر مراد آبادی




بگڑا ہوا ہے رنگ جہان خراب کا
بھر لوں نظر میں حسن کسی کے شباب کا

جگر مراد آبادی




چشم پر نم زلف آشفتہ نگاہیں بے قرار
اس پشیمانی کے صدقہ میں پشیماں ہو گیا

جگر مراد آبادی