بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر
وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے
جگر مراد آبادی
بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل بر کے آس پاس
کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| رقیب |
| 2 لائنیں شیری |
بن جاؤں نہ بیگانۂ آداب محبت
اتنا نہ قریب آؤ مناسب تو یہی ہے
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
برابر سے بچ کر گزر جانے والے
یہ نالے نہیں بے اثر جانے والے
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بھلانا ہمارا مبارک مبارک
مگر شرط یہ ہے نہ یاد آئیے گا
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
بگڑا ہوا ہے رنگ جہان خراب کا
بھر لوں نظر میں حسن کسی کے شباب کا
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
چشم پر نم زلف آشفتہ نگاہیں بے قرار
اس پشیمانی کے صدقہ میں پشیماں ہو گیا
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

