EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے
رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے

جگر مراد آبادی




ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی




ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا
مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جگر مراد آبادی




ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل
کسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا

جگر مراد آبادی




ہر طرف چھا گئے پیغام محبت بن کر
مجھ سے اچھی رہی قسمت مرے افسانوں کی

جگر مراد آبادی




حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے

جگر مراد آبادی




حسن کے ہر جمال میں پنہاں
میری رعنائی خیال بھی ہے

جگر مراد آبادی