EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

جگر مراد آبادی




دنیا یہ دکھی ہے پھر بھی مگر تھک کر ہی سہی سو جاتی ہے
تیرے ہی مقدر میں اے دل کیوں چین نہیں آرام نہیں

جگر مراد آبادی




ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہے
مسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہے

جگر مراد آبادی




ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

جگر مراد آبادی




فکر جمیل خواب پریشاں ہے آج کل
شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل

جگر مراد آبادی




گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

جگر مراد آبادی




غرق کر دے تجھ کو زاہد تیری دنیا کو خراب
کم سے کم اتنی تو ہر میکش کے پیمانے میں ہے

جگر مراد آبادی