دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
جگر مراد آبادی
دنیا یہ دکھی ہے پھر بھی مگر تھک کر ہی سہی سو جاتی ہے
تیرے ہی مقدر میں اے دل کیوں چین نہیں آرام نہیں
جگر مراد آبادی
ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہے
مسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہے
جگر مراد آبادی
ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
جگر مراد آبادی
فکر جمیل خواب پریشاں ہے آج کل
شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل
جگر مراد آبادی
گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ
جگر مراد آبادی
غرق کر دے تجھ کو زاہد تیری دنیا کو خراب
کم سے کم اتنی تو ہر میکش کے پیمانے میں ہے
جگر مراد آبادی

