گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں
جگر مراد آبادی
گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد
یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے
جگر مراد آبادی
ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاں
عشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریں
جگر مراد آبادی
ہائے وہ راز غم کہ جو اب تک
تیرے دل میں مری نگاہ میں ہے
جگر مراد آبادی
ہائے یہ حسن تصور کا فریب رنگ و بو
میں یہ سمجھا جیسے وہ جان بہار آ ہی گیا
جگر مراد آبادی
ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے
مجھ کو سمجھاتے ہیں وہ اور ان کو سمجھاتا ہوں میں
جگر مراد آبادی
ہجو نے تو ترا اے شیخ بھرم کھول دیا
تو تو مسجد میں ہے نیت تری مے خانے میں
جگر مراد آبادی

