رشتہ بحال کاش پھر اس کی گلی سے ہو
جی چاہتا ہے عشق دوبارہ اسی سے ہو
ارشاد خان سکندر
زمانے پر تو کھل کر ہنس رہا تھا
ترے چھوتے ہی رو بیٹھا ہے پاگل
ارشاد خان سکندر
کبھی کبھی کوئی بھیجتا ہے نظر میں چاہت کی پھول کلیاں
محبتوں کا نصیب ٹھہرا کبھی کبھی کا اداس رہنا
اسحاق ظفر
آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے
گر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے
عشق اورنگ آبادی
آنکھوں سے دل کے دید کو مانع نہیں نفس
عاشق کو عین ہجر میں بھی وصل یار ہے
عشق اورنگ آبادی
عاشق کی سیہ روزی ایجاد ہوئی جس دن
اس روز سے خوابوں کی یہ زلف پریشاں ہے
عشق اورنگ آبادی
اے مقلد بو الہوس ہم سے نہ کر دعوائے عشق
داغ لالہ کی طرح رکھتے ہیں مادر زاد ہم
عشق اورنگ آبادی

