EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

رشتہ بحال کاش پھر اس کی گلی سے ہو
جی چاہتا ہے عشق دوبارہ اسی سے ہو

ارشاد خان سکندر




زمانے پر تو کھل کر ہنس رہا تھا
ترے چھوتے ہی رو بیٹھا ہے پاگل

ارشاد خان سکندر




کبھی کبھی کوئی بھیجتا ہے نظر میں چاہت کی پھول کلیاں
محبتوں کا نصیب ٹھہرا کبھی کبھی کا اداس رہنا

اسحاق ظفر




آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے
گر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے

عشق اورنگ آبادی




آنکھوں سے دل کے دید کو مانع نہیں نفس
عاشق کو عین ہجر میں بھی وصل یار ہے

عشق اورنگ آبادی




عاشق کی سیہ روزی ایجاد ہوئی جس دن
اس روز سے خوابوں کی یہ زلف پریشاں ہے

عشق اورنگ آبادی




اے مقلد بو الہوس ہم سے نہ کر دعوائے عشق
داغ لالہ کی طرح رکھتے ہیں مادر زاد ہم

عشق اورنگ آبادی