EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

عرفانؔ صدیقی




یہ ہو کا وقت یہ جنگل گھنا یہ کالی رات
سنو یہاں کوئی خطرہ نہیں ٹھہر جاؤ

عرفانؔ صدیقی




کرتا ہے لہو دل کو ہر اک حرف تسلی
کہنے کو تو یوں قربت غم خوار بہت ہے

عرفانہ عزیز




جی جلائے گا یہ آوارہ و بے در ہونا
دل دکھائیں گے یہ مہکے ہوئے گھر اب کے برس

ارشاد ارشی




اب اپنے آپ کو خود ڈھونڈھتا ہوں
تمہاری کھوج میں نکلا ہوا میں

ارشاد خان سکندر




بہہ گئے آنسوؤں کے دریا میں
آپ کی بات یاد ہی نہ رہی

ارشاد خان سکندر




بوڑھی ماں کا شاید لوٹ آیا بچپن
گڑیوں کا انبار لگا کر بیٹھ گئی

ارشاد خان سکندر