EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیں تم سے ہمیشہ ملنے آیں کیوں
تمہارے پاؤں میں مہندی لگی ہے کیا

ارشاد خان سکندر




کام سب ہو گئے مرے آساں
کون سمجھے گا میری مشکل کو

ارشاد خان سکندر




کل تیری تصویر مکمل کی میں نے
فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی

ارشاد خان سکندر




کر گیا خموش مجھ کو دیر تک
چیخنا وہ ایک بے زبان کا

ارشاد خان سکندر




کھینچ لائی ہے محبت ترے در پر مجھ کو
اتنی آسانی سے ورنہ کسے حاصل ہوا میں

ارشاد خان سکندر




مرے خلاف سبھی سازشیں رچیں جس نے
وہ رو رہا ہے مری داستاں سناتا ہوا

ارشاد خان سکندر




مدتوں آنکھیں وضو کرتی رہیں اشکوں سے
تب کہیں جا کے تری دید کے قابل ہوا میں

ارشاد خان سکندر