EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آؤ ذرا سی دیر کو ہم ہنس بول ہی لیں
تم کو نہیں منظور ہے اچھا رہنے دو

عشرت آفریں




اکیلے گھر میں بھری دوپہر کا سناٹا
وہی سکون وہی عمر بھر کا سناٹا

عشرت آفریں




اپنی آگ کو زندہ رکھنا کتنا مشکل ہے
پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے

عشرت آفریں




کچی عمروں میں بھی اکیلی رہی
میں سدا اپنی ہی سہیلی رہی

عشرت آفریں




خواہشیں دل میں مچل کر یونہی سو جاتی ہیں
جیسے انگنائی میں روتا ہوا بچہ کوئی

عشرت آفریں




لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں

عشرت آفریں




تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں
یہ بھی اک دعا ہوگی وصل کی دعاؤں میں

عشرت آفریں