EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دختر رز مت کہو ناپاک ہے
آبروئے دودمان تاک ہے

عشق اورنگ آبادی




گر شیخ نے آہ کی تو مت بھول
دل میں پتھر کے بھی شرر ہے

عشق اورنگ آبادی




گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانے
خوشی سے کاٹنا غم کا دل ناشاد کیا جانے

عشق اورنگ آبادی




ہو گل بلبل تبھی بلبل پہ بلبل پھول کر گل ہو
ترے گر گل بدن بر میں قبائے چشم بلبل ہو

عشق اورنگ آبادی




عشقؔ روشن تھا وہاں دیدۂ آہو سے چراغ
میں جو یک رات گیا قیس کے کاشانے میں

عشق اورنگ آبادی




کہیو خودبیں سے کہ آئینہ میں تنہا مت بیٹھ
خطر آسیب کا رہتا ہے پری خانے میں

عشق اورنگ آبادی




لیلیٰ کا سیہ خیمہ یا آنکھ ہے ہرنوں کی
یہ شاخ غزالاں ہے یا نالۂ مجنوں ہے

عشق اورنگ آبادی