EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مزا آب بقا کا جان جاناں
ترا بوسہ لیا ہووے سو جانے

عشق اورنگ آبادی




مقابل ہو ہمارے کسب تقلیدی سے کیا طاقت
ابھی ہم محو کر دیتے ہیں آئینہ کو اک ہو میں

عشق اورنگ آبادی




نہیں معلوم دل میں بیٹھ کے کون
چشم کی دوربیں سے دیکھے ہے

عشق اورنگ آبادی




شیوۂ افسردگی کو کم نہ بوجھ
خاک کا کہتے ہیں عالم پاک ہے

عشق اورنگ آبادی




تو نے کیا دیکھا نہیں گل کا پریشاں احوال
غنچہ کیوں اینٹھا ہوا رہتا ہے زردار کی طرح

عشق اورنگ آبادی




اس کی آنکھوں کے اگر وصف رقم کیجئے گا
شاخ نرگس کو قلم کر کے قلم کیجئے گا

عشق اورنگ آبادی




یہ بت حرص و ہوا کے دل کے جب کعبہ میں توڑوں گا
تمہاری سبحہ میں کب شیخ جی زنار چھوڑوں گا

عشق اورنگ آبادی