اداس خشک لبوں پر لرز رہا ہوگا
وہ ایک بوسہ جو اب تک مری جبیں پہ نہیں
عرفانؔ صدیقی
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
عرفانؔ صدیقی
اس کو منظور نہیں ہے مری گمراہی بھی
اور مجھے راہ پہ لانا بھی نہیں چاہتا ہے
عرفانؔ صدیقی
اس کو رہتا ہے ہمیشہ مری وحشت کا خیال
میرے گم گشتہ غزالوں کا پتا چاہتی ہے
عرفانؔ صدیقی
اس سے بچھڑے تو تمہیں کوئی نہ پہچانے گا
تم تو پرچھائیں ہو پیکر کی طرف لوٹ چلو
عرفانؔ صدیقی
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
عرفانؔ صدیقی
وگرنہ تنگ نہ تھی عشق پر خدا کی زمیں
کہا تھا اس نے تو میں اپنے گھر چلا بھی گیا
عرفانؔ صدیقی

