EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تری پہلی دید کے ساتھ ہی وہ فسوں بھی تھا
تجھے دیکھ کر تجھے دیکھنا مجھے آ گیا

اقبال کوثر




وہ بھی رو رو کے بجھا ڈالا ہے اب آنکھوں نے
روشنی دیتا تھا جو ایک دیا اندر سے

اقبال کوثر




زیان دل ہی اس بازار میں سود محبت ہے
یہاں ہے فائدہ خود کو اگر نقصان میں رکھ لیں

اقبال کوثر




بند آنکھوں میں سارا تماشہ دیکھ رہا تھا
رستہ رستہ میرا رستہ دیکھ رہا تھا

اقبال خسرو قادری




جب سایہ بھی شیشے کی طرح ٹوٹ گیا
دیوار نے دیکھا یہ تماشہ نہ کبھی

اقبال خسرو قادری




میں نہیں ملتا کسی سے
بند پھاٹک بولتا ہے

اقبال خسرو قادری




روتا ہے کوئی کسی کے غم میں
سب اپنے ہی دکھ بچارتے ہیں

اقبال خسرو قادری