EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سرحد جاں تلک قلمرو دل
اس سے آگے نظام درد کا ہے

اقبال خسرو قادری




اب اتنی زور سے ہر گھر پہ دستکیں دینا
اگر جواب نہ آئے تو در نکل جائے

اقبال نوید




خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں
اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی

اقبال نوید




خواہشوں کے پیڑ سے گرتے ہوئے پتے نہ چن
زندگی کے صحن میں امید کا پودا لگا

اقبال نوید




مری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں
بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی

اقبال نوید




پھینک دے باہر کی جانب اپنے اندر کی گھٹن
اپنی آنکھوں کو لگا دے گھر کی ہر کھڑکی کے ساتھ

اقبال نوید




رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا
دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا

اقبال نوید