غزل کے رنگ میں ملبوس ہو کر
رباب درد سے آہنگ نکلا
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا
کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خزاں کا دور بھی آتا ہے ایک دن کیفیؔ
سدا بہار کہاں تک درخت رہتے ہیں
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں ایسے حسن ظن کو خدا مانتا نہیں
آہوں کے احتجاج سے جو ماورا رہے
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
محبتوں کو بھی اس نے خطا قرار دیا
مگر یہ جرم ہمیں بار بار کرنا ہے
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پھولوں کا تبسم بھی وہ پہلا سا نہیں ہے
گلشن میں بھی چلتی ہے ہوا اور طرح کی
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہی نہیں کہ نگاہوں کو اشک بار کیا
ترے فراق میں دامن بھی تار تار کیا
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

