EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غزل کے رنگ میں ملبوس ہو کر
رباب درد سے آہنگ نکلا

اقبال کیفی




گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا
کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا

اقبال کیفی




خزاں کا دور بھی آتا ہے ایک دن کیفیؔ
سدا بہار کہاں تک درخت رہتے ہیں

اقبال کیفی




میں ایسے حسن ظن کو خدا مانتا نہیں
آہوں کے احتجاج سے جو ماورا رہے

اقبال کیفی




محبتوں کو بھی اس نے خطا قرار دیا
مگر یہ جرم ہمیں بار بار کرنا ہے

اقبال کیفی




پھولوں کا تبسم بھی وہ پہلا سا نہیں ہے
گلشن میں بھی چلتی ہے ہوا اور طرح کی

اقبال کیفی




یہی نہیں کہ نگاہوں کو اشک بار کیا
ترے فراق میں دامن بھی تار تار کیا

اقبال کیفی