چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے
راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا
اقبال صفی پوری
کون جانے کہ اک تبسم سے
کتنے مفہوم غم نکلتے ہیں
اقبال صفی پوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا
آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
اقبال صفی پوری
مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا
جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے
اقبال صفی پوری
اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار
لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی
اقبال ساجد
اندر تھی جتنی آگ وہ ٹھنڈی نہ ہو سکی
پانی تھا صرف گھاس کے اوپر پڑا ہوا
اقبال ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی
جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
اقبال ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

