زمانہ دیکھا ہے ہم نے ہماری قدر کرو
ہم اپنی آنکھوں میں دنیا بسائے بیٹھے ہیں
اقبال عظیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
قیامت سے بہت پہلے قیامت کیوں نہ ہو برپا
جھکا ہے آدمی کے سامنے سر آدمیوں کا
اقبال حیدر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہی کیفیت چشم و دل و جاں ہے اقبالؔ
نہ کوئی ربط بنا اور نہ رشتہ ٹوٹا
اقبال حیدر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ خشک لب یہ پاؤں کے چھالے یہ سر کی دھول
ہم شہر کی فضا میں بھی صحرا نورد ہیں
اقبال حیدر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
افسوس معبدوں میں خدا بیچتے ہیں لوگ
اب معنیٔ سزا و جزا کچھ نہیں رہا
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اٹے ہوئے ہیں فقیروں کے پیرہن کیفیؔ
جہاں نے بھیک میں مٹی بکھیر کر دی ہے
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دیکھا ہے محبت کو عبادت کی نظر سے
نفرت کے عوامل ہمیں معیوب رہے ہیں
اقبال کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

