EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب بانجھ زمینوں سے امید بھی کیا رکھنا
روئیں بھی تو لا حاصل بوئیں بھی تو کیا کاٹیں

اقبال کوثر




بننا تھا تو بنتا نہ فرشتہ نہ خدا میں
انسان ہی بنتا مری تکمیل تو یہ تھی

اقبال کوثر




دھیان آیا مجھے رات کی تنہا سفری کا
یک دم کوئی سایہ سا گلی سے نکل آیا

اقبال کوثر




جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں
آج کل ہم ترے بارے میں بہت سوچتے ہیں

اقبال کوثر




مری خاک اس نے بکھیر دی سر رہ غبار بنا دیا
میں جب آ سکا نہ شمار میں مجھے بے شمار بنا دیا

اقبال کوثر




پر لے کے کدھر جائیں کچھ دور تک اڑ آئیں
دم جتنا میسر ہے یہ ٹھہری ہوا کاٹیں

اقبال کوثر




ترے جزو جزو خیال کو رگ جاں میں پورا اتار کر
وہ جو بار بار کی شکل تھی اسے ایک بار بنا دیا

اقبال کوثر