بڑھ گیا ہے اس قدر اب سرخ رو ہونے کا شوق
لوگ اپنے خون سے جسموں کو تر کرنے لگے
اقبال ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بگولہ بن کے سمندر میں خاک اڑانا تھا
کہ لہر لہر مجھے تند خو بھی ہونا تھا
اقبال ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
درویش نظر آتا تھا ہر حال میں لیکن
ساجدؔ نے لباس اتنا بھی سادہ نہیں پہنا
اقبال ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی
میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی
اقبال ساجد
فکر معیار سخن باعث آزار ہوئی
تنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا
اقبال ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک
خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا
اقبال ساجد
ٹیگز:
| موفلسی |
| 2 لائنیں شیری |
ہوتے ہی شام جلنے لگا یاد کا الاؤ
آنسو سنانے دکھ کی کہانی نکل پڑے
اقبال ساجد

