EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سنکٹ کے دن تھے تو سائے بھی مجھ سے کتراتے تھے
سکھ کے دن آئے تو دیکھو دنیا میرے ساتھ ہوئی

امام اعظم




تیری خوشبو سے معطر ہے زمانہ سارا
کیسے ممکن ہے وہ خوشبو بھی گلابوں میں ملے

امام اعظم




ان کے رخصت کا وہ لمحہ مجھے یوں لگتا ہے
وقت ناراض ہوا دن بھی ڈھلا ہو جیسے

امام اعظم




آتی جاتی ہے جا بہ جا بدلی
ساقیا جلد آ ہوا بدلی

امام بخش ناسخ




اے اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے
آج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا

امام بخش ناسخ




عین دانائی ہے ناسخؔ عشق میں دیوانگی
آپ سودائی ہیں جو کہتے ہیں سودائی مجھے

امام بخش ناسخ




دریائے حسن اور بھی دو ہاتھ بڑھ گیا
انگڑائی اس نے نشے میں لی جب اٹھا کے ہاتھ

امام بخش ناسخ