EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کرے جو ہر قدم پر ایک نالہ
زمانے میں درا ہے اور میں ہوں

امام بخش ناسخ




کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی تلوار
تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار

امام بخش ناسخ




کس طرح چھوڑوں یکایک تیری زلفوں کا خیال
ایک مدت کے یہ کالے ناگ ہیں پالے ہوئے

امام بخش ناسخ




کیا روز بد میں ساتھ رہے کوئی ہم نشیں
پتے بھی بھاگتے ہیں خزاں میں شجر سے دور

امام بخش ناسخ




لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں
نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں

امام بخش ناسخ




معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ

امام بخش ناسخ




منہ آپ کو دکھا نہیں سکتا ہے شرم سے
اس واسطے ہے پیٹھ ادھر آفتاب کی

امام بخش ناسخ