کرے جو ہر قدم پر ایک نالہ
زمانے میں درا ہے اور میں ہوں
امام بخش ناسخ
کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی تلوار
تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار
امام بخش ناسخ
کس طرح چھوڑوں یکایک تیری زلفوں کا خیال
ایک مدت کے یہ کالے ناگ ہیں پالے ہوئے
امام بخش ناسخ
کیا روز بد میں ساتھ رہے کوئی ہم نشیں
پتے بھی بھاگتے ہیں خزاں میں شجر سے دور
امام بخش ناسخ
لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں
نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں
امام بخش ناسخ
معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ
امام بخش ناسخ
منہ آپ کو دکھا نہیں سکتا ہے شرم سے
اس واسطے ہے پیٹھ ادھر آفتاب کی
امام بخش ناسخ

