EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیکھ کر تجھ کو قدم اٹھ نہیں سکتا اپنا
بن گئے صورت دیوار ترے کوچے میں

امام بخش ناسخ




فرقت قبول رشک کے صدمے نہیں قبول
کیا آئیں ہم رقیب تیری انجمن میں ہے

امام بخش ناسخ




فرقت یار میں انسان ہوں میں یا کہ سحاب
ہر برس آ کے رلا جاتی ہے برسات مجھے

امام بخش ناسخ




گیا وہ چھوڑ کر رستے میں مجھ کو
اب اس کا نقش پا ہے اور میں ہوں

امام بخش ناسخ




گو تو ملتا نہیں پر دل کے تقاضے سے ہم
روز ہو آتے ہیں سو بار ترے کوچے میں

امام بخش ناسخ




ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب
فردوس میں بھی سنتے ہیں نہر شراب ہے

امام بخش ناسخ




ہم ضعیفوں کو کہاں آمد و شد کی طاقت
آنکھ کی بند ہوا کوچۂ جاناں پیدا

امام بخش ناسخ