EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کس قدر گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ہم
جو سکون لٹتا ہے بار بار اس گھر کا

اکرام مجیب




پہلے دروازے پہ دستک دے لوں
پھر یہ دیوار گرا بھی دوں گا

اکرام تبسم




آج کی شام گزاریں گے ہم چھتری میں
بارش ہوگی خبریں سن کر آیا ہوں

الیاس بابر اعوان




اس الجھن کو سلجھانے کی کون سی ہے تدبیر لکھو
عشق اگر ہے جرم تو مجرم رانجھا ہے یا ہیر لکھو

الیاس عشقی




کوئی قریہ کوئی دیار ہو کہیں ہم اکیلے نہیں رہے
تری جستجو میں جہاں گئے وہیں ساتھ در بدری رہی

الیاس عشقی




وہی آگ اپنا نصیب تھی کہ تمام عمر جلا کیے
جو لگائی تھی کبھی عشق نے وہی آگ دل میں بھری رہی

الیاس عشقی




وقت آیا تو خون سے اپنے داغ ندامت دھو لیں گے
سایۂ زلف میں جاگنے والے سایۂ دار میں سو لیں گے

الیاس عشقی