EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے
یہ گھر آباد ہوتا اس کو ویراں کر دیا ہم نے

اجتبیٰ رضوی




مرے ساز نفس کی خامشی پر روح کہتی ہے
نہ آئی مجھ کو نیند اور سو گیا افسانہ خواں میرا

اجتبیٰ رضوی




زباں سے دل کا فسانہ ادا کیا نہ گیا
یہ ترجماں تو بنی تھی مگر بنا نہ گیا

اجتبیٰ رضوی




ایک درد کی لذت برقرار رکھنے کو
کچھ لطیف جذبوں کی خوں سے آبیاری کی

اکرام مجیب




ہجر کی مسافت میں ساتھ تو رہا ہر دم
دور ہو گئے تجھ سے جب ترے قریں پہنچے

اکرام مجیب




اس حسین منظر سے دکھ کئی ابھرنے ہیں
دھوپ جب اترنی ہے برف کے مکانوں پر

اکرام مجیب




کم ذرا نہ ہونے دی ایک لفظ کی حرمت
ایک عہد کی ساری عمر پاسداری کی

اکرام مجیب