EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر پھر کے دائرے ہی میں رکھتا ہوں میں قدم
آئی کہاں سے گردش پرکار پاؤں میں

امام بخش ناسخ




ہو گئے دفن ہزاروں ہی گل انداز اس میں
اس لئے خاک سے ہوتے ہیں گلستاں پیدا

امام بخش ناسخ




ہو گیا زرد پڑی جس پہ حسینوں کی نظر
یہ عجب گل ہیں کہ تاثیر خزاں رکھتے ہیں

امام بخش ناسخ




جس قدر ہم سے تم ہوئے نزدیک
اس قدر دور کر دیا ہم کو

امام بخش ناسخ




جسم ایسا گھل گیا ہے مجھ مریض عشق کا
دیکھ کر کہتے ہیں سب تعویذ ہے بازو نہیں

امام بخش ناسخ




جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے
جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے

امام بخش ناسخ




کام اوروں کے جاری رہیں ناکام رہیں ہم
اب آپ کی سرکار میں کیا کام ہمارا

امام بخش ناسخ