EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آستھا کا رنگ آ جائے اگر ماحول میں
ایک راکھی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے آج

امام اعظم




دنیا کی اک ریت پرانی، ملنا اور بچھڑنا ہے
ایک زمانہ بیت گیا ہے تم کب ملنے آؤ گے

امام اعظم




گیسو و رخسار کی باتیں کریں
آؤ مل کر پیار کی باتیں کریں

امام اعظم




ہر طرف اک جنگ کا ماحول ہے اعظمؔ یہاں
آدمی اب گھر کے بھی اندر سلامت ہے کہاں

امام اعظم




جو مزے آج ترے غم کے عذابوں میں ملے
ایسی لذت کہاں ساقی کی شرابوں میں ملے

امام اعظم




کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا
زمیں کا درد کبھی آسماں نہ سمجھے گا

امام اعظم




موسم سوکھا سوکھا سا تھا لیکن یہ کیا بات ہوئی
کیول اس کے کمرے میں ہی رات گئے برسات ہوئی

امام اعظم