EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم نے رسماً مجھے سلام کیا
لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے

افتخار راغب




وہ کہتے ہیں کہ راغبؔ تم نہیں رکھتے خیال اپنا
میں کہتا ہوں کہ ہر دم فکر دامن گیر کس کی ہے

افتخار راغب




یہ وصل کی رت ہے کہ جدائی کا ہے موسم
یہ گلشن دل ہے کہ بیابان کہیں کا

افتخار راغب




ہجرت کی گھڑی ہم نے ترے خط کے علاوہ
بوسیدہ کتابوں کو بھی سامان میں رکھا

افتخار شفیع




تھا کوئی وہاں جو ہے یہاں بھی ہے وہاں بھی
جو ہوں میں یہاں ہوں میں وہاں کوئی نہیں تھا

افتخار شفیع




افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن
ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے

اجتبیٰ رضوی




چرانے کو چرا لایا میں جلوے روئے روشن سے
مگر اب بجلیاں لپٹی ہوئی ہیں دل کے دامن سے

اجتبیٰ رضوی