EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک موسم کی کسک ہے دل میں دفن
میٹھا میٹھا درد سا ہے مستقل

افتخار راغب




اک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں میں
ہنس کے تجھ سے بچھڑ رہا ہوں میں

افتخار راغب




انکار ہی کر دیجیے اقرار نہیں تو
الجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں تو

افتخار راغب




اس شوخئ گفتار پر آتا ہے بہت پیار
جب پیار سے کہتے ہیں وہ شیطان کہیں کا

افتخار راغب




جی چاہتا ہے جینا جذبات کے مطابق
حالات کر رہے ہیں حالات کے مطابق

افتخار راغب




کس کس کو بتاؤں کہ میں بزدل نہیں راغبؔ
اس دور میں مفہوم شرافت ہی الگ ہے

افتخار راغب




کیا بتاؤں دل میں کس کی یاد کا
ایک کانٹا چبھ رہا ہے مستقل

افتخار راغب