EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس قدر بڑھنے لگے ہیں گھر سے گھر کے فاصلے
دوستوں سے شام کے پیدل سفر چھینے گئے

افتخار قیصر




مرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو
تمہیں میرے سوا چہرہ تمہارا کون دے گا

افتخار قیصر




سارے دریا پھوٹ پڑیں گے اک دوجے کے بیچ
اک دن آ کر مل جائے گی تیری میری پیاس

افتخار قیصر




بے سبب راغبؔ تڑپ اٹھتا ہے دل
دل کو سمجھانا پڑے گا ٹھیک سے

افتخار راغب




چند یادیں ہیں چند سپنے ہیں
اپنے حصے میں اور کیا ہے جی

افتخار راغب




دل میں کچھ بھی تو نہ رہ جائے گا
جب تری چاہ نکل جائے گی

افتخار راغب




دن میں آنے لگے ہیں خواب مجھے
اس نے بھیجا ہے اک گلاب مجھے

افتخار راغب