EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا بتاؤں کہ کتنی شدت سے
تم سے ملنے کو چاہتا ہے جی

افتخار راغب




لے جائے جہاں چاہے ہوا ہم کو اڑا کر
ٹوٹے ہوئے پتوں کی حکایت ہی الگ ہے

افتخار راغب




پڑھتا رہتا ہوں آپ کا چہرہ
اچھی لگتی ہے یہ کتاب مجھے

افتخار راغب




راے اس پر مت کرو قائم کوئی
جانتے جس کو نہیں نزدیک سے

افتخار راغب




راغبؔ وہ میری فکر میں خود کو بھی بھول جائیں
ایسی تو کوئی بات نہیں چاہتا تھا میں

افتخار راغب




سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دم
خشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد

افتخار راغب




تقدیر وفا کا پھوٹ جانا
میں بھولا نہ دل کا ٹوٹ جانا

افتخار راغب