EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اک ذرا سی بات پہ یہ منہ بنانا روٹھنا
اس طرح تو کوئی اپنوں سے خفا ہوتا نہیں

ابن مفتی




جن پہ نازاں تھے یہ زمین و فلک
اب کہاں ہیں وہ صورتیں باقی

ابن مفتی




کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں
نیند میری خواب سارے آپ کے

ابن مفتی




کر برا تو بھلا نہیں ہوتا
کر بھلا تو برا نہیں ہوتا

ابن مفتی




پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیا
پھر دعا میں اثر نہیں آیا

ابن مفتی




تیرے خوابوں کی لت لگی جب سے
رات کا انتظار رہتا ہے

ابن مفتی




یاد کا کیا ہے آ گئی پھر سے
آنکھ کا کیا ہے پھر سے رو لی ہے

ابن مفتی