گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بغیا کے بھید نہ کھولو سیر کرو خاموش رہو
ابن انشا
ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا
ابن انشا
ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی
سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے
ابن انشا
حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہو
ابن انشا
حسن سب کو خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی
ابن انشا
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو
پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
ابن انشا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
ابن انشا

