EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے
کھیلو توڑو جی بہلاؤ

ابن صفی




دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے
شام کو واپسی نہیں ہوتی

ابن صفی




ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ
کون ایسے میں پار اترا ہے

ابن صفی




حسن بنا جب بہتی گنگا
عشق ہوا کاغذ کی ناؤ

ابن صفی




لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں
لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں

ابن صفی




زمین کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے
ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

ابن صفی




آنکھوں میں خواب چبھن سونے نہیں دیتی ہے
ایک مدت سے ہمیں تو نے جگا رکھا ہے

ابن امید