EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ کاروبار بھی کب راس آیا
خسارے میں رہے ہم پیار کر کے

ابن مفتی




یوں تو پتھر بہت سے دیکھے ہیں
کوئی تم سا نظر نہیں آیا

ابن مفتی




عجیب بات ہے کیچڑ میں لہلہائے کنول
پھٹے پرانے سے جسموں پہ سج کے ریشم آئے

ابن صفی




بالآخر تھک ہار کے یارو ہم نے بھی تسلیم کیا
اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں

ابن صفی




بجھ گیا دل تو خرابی ہوئی ہے
پھر کسی شعلہ جبیں سے ملئے

ابن صفی




چاند کا حسن بھی زمین سے ہے
چاند پر چاندنی نہیں ہوتی

ابن صفی




دیکھ کر میرا دشت تنہائی
رنگ روئے بہار اترا ہے

ابن صفی