EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئے
کون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاں

ابن انشا




وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں
اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

ابن انشا




یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیا
بستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاں

ابن انشا




اب تو کر ڈالیے وفا اس کو
وہ جو وعدہ ادھار رہتا ہے

ابن مفتی




دل کی باتوں کو دل سمجھتا ہے
دل کی بولی عجیب بولی ہے

ابن مفتی




دل میں سجدے کیا کرو مفتیؔ
اس میں پروردگار رہتا ہے

ابن مفتی




ہم سے شاید معتبر ٹھہری صبا
جس نے یہ گیسو سنوارے آپ کے

ابن مفتی