EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایسے خود کو اذیتیں دینا
تو نے فرخؔ کہاں سے سیکھا ہے

ابن امید




ہم یونہی خواب بنتے رہتے ہیں
کھیل سارا قضا کا ہوتا ہے

ابن امید




میں خوشی میں گھر کے اداس ہوں
کوئی اور اس کا سبب نہیں

ابن امید




آج زنداں میں اسے بھی لے گئے
جو کبھی اک لفظ تک بولا نہیں

ابراہیم ہوش




ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟
آپ، جو ایک تھے ہزاروں میں

ابراہیم ہوش




جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگے
جو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائے

ابراہیم ہوش




کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یاد
جب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوں

ابراہیم ہوش