جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا
ابن انشا
جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے
کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے
ابن انشا
کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوست
ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا
ابن انشا
کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہو
ابن انشا
میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرور
شام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کرو
ابن انشا
رات آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی
ابن انشا
سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ نکالی نہر
ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاں
ابن انشا

