EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے
کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ

ہاشم علی خاں دلازاک




گریباں چاک، دھواں، جام، ہاتھ میں سگریٹ
شب فراق، عجب حال میں پڑا ہوا ہوں

ہاشم رضا جلالپوری




ہم بے نیاز بیٹھے ہوئے ان کی بزم میں
اوروں کی بندگی کا اثر دیکھتے رہے

ہاشم رضا جلالپوری




ہم سے آباد ہے یہ شعر و سخن کی محفل
ہم تو مر جائیں گے لفظوں سے کنارہ کر کے

ہاشم رضا جلالپوری




محفل میں لوگ چونک پڑے میرے نام پر
تم مسکرا دئے مری قیمت یہی تو ہے

ہاشم رضا جلالپوری




ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے
زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارہ کر کے

ہاشم رضا جلالپوری




اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے
زندگی میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے

حسنین عاقب