اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے
کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
ہاشم علی خاں دلازاک
گریباں چاک، دھواں، جام، ہاتھ میں سگریٹ
شب فراق، عجب حال میں پڑا ہوا ہوں
ہاشم رضا جلالپوری
ہم بے نیاز بیٹھے ہوئے ان کی بزم میں
اوروں کی بندگی کا اثر دیکھتے رہے
ہاشم رضا جلالپوری
ہم سے آباد ہے یہ شعر و سخن کی محفل
ہم تو مر جائیں گے لفظوں سے کنارہ کر کے
ہاشم رضا جلالپوری
محفل میں لوگ چونک پڑے میرے نام پر
تم مسکرا دئے مری قیمت یہی تو ہے
ہاشم رضا جلالپوری
ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے
زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارہ کر کے
ہاشم رضا جلالپوری
اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے
زندگی میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے
حسنین عاقب

