EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پے بہ پے تلوار چلتی ہے یہاں آفات کی
دست و بازو کی خبر لوں تو سمجھئے سر گیا

حسن نعیم




پے بہ پے تلوار چلتی ہے یہاں آفات کی
دست و بازو کی خبر لوں تو سمجھئے سر گیا

حسن نعیم




پیمبروں نے کہا تھا کہ جھوٹ ہارے گا
مگر یہ دیکھیے اپنا مشاہدہ کیا ہے

حسن نعیم




روح کا لمبا سفر ہے ایک بھی انساں کا قرب
میں چلا برسوں تو ان تک جسم کا سایہ گیا

حسن نعیم




سچ تو یہ کہ ابھی دل کو سکوں ہے لیکن
اپنے آوارہ خیالات سے جی ڈرتا ہے

حسن نعیم




سرائے دل میں جگہ دے تو کاٹ لوں اک رات
نہیں ہے شرط کہ مجھ کو شریک خواب بنا

حسن نعیم




اب اس سے بڑھ کے بھلا معتبر کہیں کس کو
زمانہ اس کا ہے ماضی و حال اس کے ہیں

حسن رضوی