EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بہت اداس ہیں دیواریں اونچے محلوں کی
یہ وہ کھنڈر ہیں کہ جن میں امیر رہتے ہیں

حسنین عاقب




غم اٹھاتا ہوں غزل کہتا ہوں جیتا رہتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ اک دن میرؔ ہو جاؤں گا میں

حسنین عاقب




گرچہ ہلکا سا دھندلکا ہے تصور بھی ترا
بند آنکھوں کو یہ منظر بھی بہت لگتا ہے

حسنین عاقب




جی چاہتا ہے ترک محبت کو بار بار
آتا ہے ایک ایسا بھی لمحہ وصال میں

حسنین عاقب




کٹتی ہے شب وصال کی پلکیں جھپکتے ہی
جس کی صبح نہ ہو کبھی وہ رات بھی تو ہو

حسنین عاقب




خود کو کبھی میں پا نہ سکا
جانے کتنا گہرا ہوں

حسنین عاقب




لفظوں کے ہیر پھیر سے بنتی نہیں غزل
شعروں میں تھوڑی گرمئ جذبات بھی تو ہو

حسنین عاقب